19 مئی 2026 - 12:14
آبنائے باب المندب میں شدید دھماکے اور بین الاقوامی بحری اداروں کی پراسرار خاموشی

موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات تزویراتی آبنائے باب المندب میں شدید دھماکے ہوئے، جس کی وجہ سے اس اہم آبی گذرگاہ کے دونوں اطراف میں تمام بحری جہازوں کی آمدورفت دو گھنٹوں تک مکمل طور پر معطل رہی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ان ذرائع کے بقول، ان دھماکوں کی اصل وجہ ابھی تک قطعی طور پر واضح نہیں ہے اور اس ابہام نے بحری اور سیکیورٹی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

بین الاقوامی انشورنس اداروں اور بحری حفاظت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ذمہ دار اداروں کی پراسرار، قابلِ غور اور معنی خیز خاموشی اس معاملے کی پیچیدگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

بحری شعبے کے سینئر ماہرین اس وسیع خاموشی کو بے مثال اور ان اداروں کے پیشہ ورانہ فرائض کے کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس خاموشی کی وجہ سے ـ دو عوامل کی بنا پر ـ بحری حفاظت برقرار رکھنے میں ان اداروں کے فرائض منصبی پر سوالیہ نشان اور ان کی عالمی ساکھ کو دھچکا لگا ہے:

1۔ امریکی حکومت کا ان اداروں پر براہِ راست دباؤ، اس لئے کہ منفی خبروں کی عکاسی روکی جا سکے جو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں!

2۔ اس حساس آبی گذرگاہ میں حفاظت فراہم کرنے اور قائم رکھنے میں امریکی فوج کی نااہلی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب آبنائے باب المندب، توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راہداریوں میں سے ایک ہے، اور اس پر ہمیشہ سے بین الاقوامی حفاظتی نگاہیں مرکوز رہی ہیں۔ نیز، آبنائے ہرمز بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha